8 ستمبر، 2026، 2:28 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کے خلاف جنگ کے اہداف کیوں پورے نہ ہوسکے؟ امریکہ میں واشنگٹن کی دفاعی طاقت پر سوالات اٹھنے لگے

ایران کے خلاف جنگ کے اہداف کیوں پورے نہ ہوسکے؟ امریکہ میں واشنگٹن کی دفاعی طاقت پر سوالات اٹھنے لگے

چھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود امریکی و اسرائیلی حملوں کے اعلان کردہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے، جس کے بعد خود امریکی میڈیا، تھنک ٹینکس اور حکام جنگ کے نتائج، بڑھتے اخراجات اور واشنگٹن کے محدود ہوتے اختیارات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جارحیت کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن واشنگٹن کی جانب سے حملوں کے آغاز میں بیان کیے گئے اہداف اور جنگ کے عملی نتائج کے درمیان نمایاں فرق اب خود امریکی سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں زیر بحث ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی پالیسی پر یہ سوالات صرف ناقدین کی جانب سے نہیں اٹھائے جا رہے بلکہ امریکی میڈیا، تحقیقاتی ادارے، تھنک ٹینکس اور بعض حکام بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ واشنگٹن اپنے اعلان کردہ تزویراتی اہداف میں کس حد تک کامیاب ہوا۔

ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ کن فتح کے ابتدائی دعووں کی جگہ اب ناکامیوں، بڑھتے ہوئے اخراجات اور محدود ہوتے امریکی اختیارات پر بحث نے لے لی ہے۔ مختلف امریکی حلقوں کی یہ ہم آہنگ آرا اس لیے اہم ہیں کہ ان سے جنگ کے نتیجے کی ایک ایسی تصویر سامنے آ رہی ہے جو واشنگٹن کے ابتدائی فتح کے دعووں سے مختلف ہے۔

ناکامیوں کی طویل فہرست؛ جوہری پروگرام سے حکومت کی تبدیلی تک

امریکہ نے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز پر کئی بڑے اہداف مقرر کیے تھے۔ ان میں ایران کی میزائل صلاحیت اور دفاعی صنعت کو تباہ کرنا، بحری قوت کو مفلوج کرنا اور ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کے سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

امریکی مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات نے بھی حملوں کے ابتدائی دنوں میں واشنگٹن کے اعلان کردہ اہداف کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض اہداف محض فضائی حملوں کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے اور ان کے لیے ایران کے اندر سیاسی تبدیلیاں ضروری ہوں گی۔ لیکن چند ماہ گزرنے کے بعد خود امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی ان اہداف اور حاصل ہونے والے نتائج کے درمیان فرق نمایاں ہونے لگا۔

واشنگٹن پوسٹ نے جون میں رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے بعض اہم اہداف اب بھی حاصل نہیں ہوئے اور امریکہ کی جانب سے ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے میں حاصل ہونے والی محدود فوجی کامیابی لازماً کسی تزویراتی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوئی۔

امریکی اخبار نے خطے میں اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر کے اس اعتراف کا بھی حوالہ دیا کہ ایران اب بھی خطے میں میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جوہری پروگرام بھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی واشنگٹن کے دعووں اور زمینی حقیقت میں فرق برقرار رہا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف مواقع پر ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن امریکی دفاعی اداروں کے ابتدائی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ حملوں نے پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ اسے کچھ عرصے کے لیے پیچھے دھکیلا ہے۔

تازہ حملوں کے بعد بھی واشنگٹن کے لیے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جوہری صلاحیت کی ممکنہ بحالی ایک بنیادی مسئلہ بنے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ذخائر کو جمع کرنے یا ختم کرنے کا معاملہ مذاکرات کے مشکل ترین موضوعات میں شامل ہو گیا۔

میزائل طاقت پر امریکی دعوے بھی سوالوں کی زد میں

ایران کی میزائل طاقت کے بارے میں بھی امریکہ کے ابتدائی دعوے بعد کے جائزوں سے کمزور پڑ گئے۔ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے میزائلوں اور لانچروں کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن بعد کے امریکی اندازوں میں ان اعداد و شمار کو کم کر دیا گیا۔ ایک اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے بھی تسلیم کیا کہ ایران اب بھی میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس نے بھی اپنی ایک جائزے میں کہا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز کا استعمال جاری رہنا اس ابتدائی دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کا بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

حکومت کی تبدیلی کا خواب بھی پورا نہ ہوا

شاید واشنگٹن کے اعلان کردہ اہداف اور حاصل شدہ نتائج کے درمیان سب سے واضح فرق ایران کے سیاسی نظام کے معاملے میں سامنے آیا۔

ٹرمپ نے حملوں کے آغاز میں ایران کے حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی کی بات کی تھی، تاہم واشنگٹن پوسٹ نے حملوں کے چند ہفتوں بعد رپورٹ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران کا سیاسی نظام منہدم نہیں ہوا اور حکومت برقرار ہے۔

چیتھم ہاؤس نے بھی چند ماہ بعد اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا کہ شدید دباؤ کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے ادارہ جاتی اتحاد اور اپنی بقا کے لیے ضروری سکیورٹی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔

اس ناکامی کی فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ایران کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، میزائل پروگرام میں دوبارہ صلاحیت پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی واشنگٹن کو کوئی مستقل معاہدہ حاصل نہیں ہو سکا۔

امریکی سفارت کار گری گراپو نے حالیہ دنوں میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، اگرچہ انہوں نے امریکی فوجی اور محدود عملی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔

اس طرح اصل سوال یہ نہیں کہ امریکی حملوں سے ایران کو نقصان پہنچا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا فوجی ضربیں اپنے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی نتائج میں تبدیل ہوئیں یا نہیں۔ امریکی حلقوں میں ہونے والی بحث کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ فوجی نقصان اور سیاسی کامیابی کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہو گیا ہے۔

خطے میں امریکی سکیورٹی چھتری میں دراڑ

حالیہ مہینوں میں ہونے والے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی موجودگی کے ایک بنیادی تصور کو بھی چیلنج کر دیا ہے کہ کیا خلیج فارس میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں اور فوجی اڈوں کی موجودگی اب بھی واشنگٹن کے اتحادیوں کے لیے سکیورٹی چھتری کا کردار ادا کر سکتی ہے یا یہ اڈے خود انہیں حملوں کے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں؟

یہ سوال اب امریکی تزویراتی حلقوں میں بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات نے تسلیم کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے قریب ہونے کے باعث ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے لیے قابلِ رسائی ہیں اور حالیہ جنگ نے امریکی فوجی تعیناتی کے موجودہ ماڈل پر نظرثانی کی ضرورت نمایاں کر دی ہے۔

یہ خطرہ محض نظری بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی فوجی تعیناتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون جنگ کے خاتمے کے بعد خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ بعض متاثرہ اڈوں کی دوبارہ تعمیر کے حوالے سے بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

یعنی جن تنصیبات کو امریکی طاقت اور ڈیٹرنس کا مرکز سمجھا جاتا تھا، وہ اب خود امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہیں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے بھی اپنی جائزے میں لکھا کہ امریکی افواج، جو ماضی میں خطے میں پیشگی تعیناتی اور عملی تحفظ کی ایک سطح سے فائدہ اٹھاتی تھیں، اب میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں پہلے جیسی محفوظ پوزیشن میں نہیں رہیں۔

اسٹیمسن سینٹر نے اس سے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جنگ نے ظاہر کر دیا کہ امریکی فوجی اڈوں کا وہ نیٹ ورک جو معمول کے حالات اور بلا مقابلہ امریکی برتری کے لیے بنایا گیا تھا، طویل میزائل اور ڈرون جنگ کے مقابلے میں ضرورت سے زیادہ مرکوز اور کمزور ہے۔

اس صورتحال کے اثرات امریکہ کے عرب اتحادیوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے خلیجی عرب ممالک کے رہنماؤں میں ٹرمپ کے بحران سے نمٹنے کے طریقے پر بڑھتی تشویش اور عدم اطمینان کی اطلاع دی ہے۔

یوں مسئلہ صرف چند امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کا نہیں بلکہ خطے میں قائم اس پورے تصور کا ہے جسے امریکی تحفظ کے سائے میں سلامتی کہا جاتا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کا بل بھی واشنگٹن کی میز پر

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اب محض ایک جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہ راست امریکی معیشت اور واشنگٹن کے اتحادیوں تک پہنچ چکے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق ہرمز کی عملی بندش سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات عالمی منڈی کی رسائی سے باہر ہوگئیں، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں کے دوران تیل کی منڈی میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک پیدا ہوئی۔ اس بحران کا اثر جلد ہی ایندھن کی قیمتوں اور عام شہریوں کے اخراجات پر ظاہر ہوا۔

امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے اندازے کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اب تک امریکی صارفین اور ٹیکس دہندگان پر تقریباً 132 ارب ڈالر کا بوجھ پڑ چکا ہے، جبکہ ایک موقع پر امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.56 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔

کھاد کی قیمتوں میں تقریباً 47 فیصد اضافہ بھی بالواسطہ طور پر زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا۔ یعنی آبنائے ہرمز کا بحران صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات امریکی شہریوں کے کھانے کی میز تک پہنچ گئے۔

یہ معاشی دباؤ عوامی ناراضی میں بھی تبدیل ہوا۔ یونیورسٹی آف میساچوسٹس کے اگست کے آخر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 80 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف حملوں کے نتیجے میں خوراک اور پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، جبکہ 68 فیصد نے ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

اسی سروے میں ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 32 فیصد تک گر گئی جبکہ 64 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی کو مسترد کیا۔ اس طرح جنگ کی معاشی قیمت بتدریج وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی قیمت میں بھی تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

حالیہ معاشی اعداد و شمار بھی دباؤ کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں دوبارہ بڑھتی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جس سے ڈیزل کی قیمت اور افراطِ زر میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوا۔

فنانشل ٹائمز کے ایک تازہ سروے میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد بتائی گئی، جبکہ 57 فیصد ووٹروں نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی مالی حالت خراب ہوئی ہے۔ یوں آبنائے ہرمز واشنگٹن کے لیے صرف ایک اہم سمندری راستہ نہیں بلکہ ایسا مالی بل بن چکا ہے جس کی قیمت توانائی کی منڈی، عام شہریوں کے اخراجات اور بالآخر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ تک پہنچ رہی ہے۔

پابندیوں کا پرانا نسخہ واشنگٹن کی بے بسی کا اعتراف؟

ایران کے خلاف کئی ماہ کی فوجی کارروائیوں کے باوجود مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر پابندیوں اور معاشی دباؤ کو اپنی حکمت عملی کا اہم ستون بنا لیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تہران کے سخت مؤقف کے مقابلے میں فوجی اور معاشی دباؤ کو بیک وقت استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے اور نئی پابندیوں کے ذریعے ایران کے باقی ماندہ تجارتی روابط کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن پابندیوں کی طرف یہ واپسی ایک پرانے مسئلے کو بھی سامنے لاتی ہے کہ معاشی پابندیاں کسی ملک کی معیشت پر دباؤ تو ڈال سکتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اس ملک کو اپنی سیاسی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور بھی کر دیں۔

رائٹرز نے اپنی چھ ماہ کی جائزہ رپورٹ میں بھی نشاندہی کی کہ شدید پابندیوں اور تیل کی برآمدات پر دباؤ کے باوجود ایران نے اپنا سیاسی کنٹرول برقرار رکھا ہے، جبکہ ماہرین کو اب بھی اس بات پر شک ہے کہ پابندیاں تہران کو اپنی بنیادی تزویراتی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

چین؛ امریکی دباؤ کی سب سے بڑی رکاوٹ

یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب چین کا کردار سامنے آتا ہے۔ امریکہ نے اگست میں ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا، تاہم واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین نے ٹرمپ کے اقتصادی ڈے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے اور ایران کے ساتھ تجارت پر امریکی دباؤ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔

چین ایران کے تیل کے اہم خریداروں میں شامل ہے۔ اس لیے بیجنگ پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش خود امریکہ کے لیے کہیں زیادہ بڑے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی اخراجات کا باعث بن سکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق شدید پابندیوں کے باوجود امریکہ نے ابھی تک بڑے چینی بینکوں اور کمپنیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے جو امریکی مالیاتی نظام سے منسلک ہیں، کیونکہ ایسا اقدام واشنگٹن کے لیے بڑے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

اصل سوال اب بھی باقی ہے

یوں ایران کے خلاف فوجی حملوں کے بعد امریکہ ایک بار پھر پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی دباؤ کے امتزاج کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

اگر کئی برس کا معاشی دباؤ ایران کو اپنی سیاسی سمت تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکا اور فوجی حملے بھی واشنگٹن کے اعلان کردہ سیاسی و تزویراتی اہداف حاصل نہیں کر سکے تو امریکہ کے پاس ایسا کون سا کم قیمت راستہ باقی ہے جو اسے مطلوبہ نتیجے تک پہنچا سکے؟ شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اب واشنگٹن سے زیادہ خود امریکی میڈیا، تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز حلقے تلاش کر رہے ہیں۔

News ID 1941221

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha